Baba Ji Ka Janaza 40

ایک بابا جی کا جنازہ اور اس کے اصل وارث کی کہانی –

ایک علاقے میں ایک باباجی کا انتقال ھو گیا-جنازہ تیار ہوا اور جب اٹھا کر قبرستان لے جانے لگے تو ایک آدمی آیا اور چارپائی ایک پاؤں پکڑ لیا -اور بولا مرنے والے نے میرے 15 لاکھ دینے ہے –
پہلے مجھے پیسے دو پھر اس کو دفن کرنے دونگا -اب تمام لوگ کھڑے دیکھے تماشا دیکھ رہے ہیں -بیٹوں نے کہا کہ مرنے والے نے تو ہمیں ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی-کہ وہ مقروض ہے-اسلئے ہم نہیں دے سکتے –

مرنے والے شخص کے بھائیوں نے کہا کہ جب بیٹے ذمہ داری نہیں لے رہے تو ہم کیوں دے اب سارے کھڑے ہے اور آدمی نے چارپائی پکڑی ہے -جب کافی دیر گزر گئی تو بات گھر کی عورتوں تک پہنچ گئی –
مرنے والے کی اکلوتی بیٹی نے جب یہ بات سنی تو فوری طور پر اپنا سارا زیوار اتارا اور اپنا سارا نقد جمع کر کے اس آدمی کے لیے بیجھوا دی – اور کہا کہ الله کے لیے یہ زیوار او نقدی رکھ دو اور میرے ابو جان کا جنازہ مت روکھو-

t>

میں مرنے سے پہلے اپ کہ سارا قرضہ اتار دونگی اور باقی رقم کی جلدی بندوبست کر دونگی -اب جب وہ پیر پکڑنے والا شخص کھڑا ہوا – اور سرے مجمے سے مخاطب ہوا کہ اصل بات یہ ہے کہ میں نے مرنے والے سے 15 لاکھ لینے نہیں بلکہ دینے ہے-
اور اس کے کسی وارث کو میں نہیں جانتا تھا-اسلئے میں نے یہ کھیل کھیلا -اب مجھے پتا چل چکا کہ اس کی اصل وارث ایک بیٹی ہے -اور اسکا کوئی ایک بیٹا یا بھائی نہیں ہے -اب بھائی اور بیٹے منہ اٹھاۓ دیکھ رہے ہیں –
اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے بیٹی والے خوش نصیب ہے -لھذا بیٹی کی پیدائیش پر خوش ہونا چاہیے-نہ کہ غم کئے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں