Battle of Yarmok 44

ایثار کی ایک نایاب مثال

حضرت ابن خذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ یرموک کی لڑائی میں، میں اپنے چچا زاد بھائی کی تلاش میں نکلا کہ وہ لڑائی میں شریک تھے اور پانی کہ ایک مشکیزہ میں نے اپنے ساتھ لے لیا کہ اگر وہ پیاسے ھو تو ان کو پانی پلاؤں….
اتفاق سے وہ ایک جگہ اس حالات میں پڑے ہوئے ملے کہ دم توڑ رہے تھے اور جان کنی شروع ھو چکی تھی، میں نے پوچھا پانی پلادوں؟
اس نے اشارے سے ہاں کہی ، اتنے میں ایک اور صحابی جو قریب پڑے تھے اور وہ بھی آخری سانس لے رہے تھے انھوں نے آہ کی، میرے چچا زاد بھائی نے اواز سنی تو مجھے اس کے پاس جانے کا اشارہ کیا ….
میں ان کے پاسس پانی لے کر گیا دیکھا وہ ہشام بن عاص ضی اللہ عنہ تھے،ان کے پاس پونچا ہی تھا کہ ان کے قریب ایک تیسرا صاحب اسی حالات میں دم توڑ رہے تھے انھوں نے اہ کی ہشام نے مجے اس کے پاس جانے کہ اشارہ کیا …..
ان کے پانی لے کر پونچا تو ان کہ دم نکل چکا تھا، ہشام کے پاس آیا تو وہ بھی جانبحق ھو چکے تھے …. پھر اپنے چچا زاد بھائی کے پاس آیا تو وہ بھی شہید ھو چکے تھے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں